Thursday, 18 October 2012

علیؑ و زہراؑ کی شادی۔۔رباعی




ذوالحج کی پہلی ہے خوشا عرش و زمیں ہے
زہراؑ کی شادی پہ نازاں سید دیںؐ ہے
جن و ملائک نے پڑھے نغمہ ہائے الفت
جبریلؑ بھی خوشی میں دیکھو فرش نشیں ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سیدِ دیںؐ ناصرِ دیں سے ہوئے گویا
پیغامِ حق جبریل سے ہے مجھے ملا
عقدِ علیؑ و بتولؑ میری مشیت
میری مشیت ہے سجے اسؑ پہ ہی سہرا

محصور۔۔



Wednesday, 17 October 2012

ملالہ یوسف زئی کے نام۔۔۔



اس نہتی بچی کے نام جس نے اپنےارادے سے درندہ صفت دہشت گردوں کو زلت کی خاک چٹائی۔

اہل امن کوآنا ہے

اہلِ ستم کو جانا ہے

بتلائے کوئی خوں خواروں کو
اہل ستم کے یاروں کو
یہ وقت گزر بھی جانا ہے
اہلِ امن کو آنا ہے
اہل ستم کو جانا ہے

نہ خائف خوں کی سرخی سے
نہ خائف خنجر، گولی سے
منزل کو آخر پانا ہے
اہلِ امن کو آنا ہے
اہل ستم کو جانا ہے

علم و شعور سے ڈرتے ہیں
ننھی بچی سے ڈرتے ہیں
وہ جو فکر دہشت گردانہ ہے
اہل امن کو آنا ہے
اہلِ ستم کو جانا ہے

ظلم کے بادل چھائے ہیں
تلواروں کےسائے ہیں
شمعِ علم جلانا ہے
اہل امن کو آنا ہے
اہل ستم کوجانا ہے

سن سہمے قاتل میرے
ڈرتے ہوئے قاتل میرے
یہ حملہ بزدلانہ ہے
اہل امن کو آنا ہے
اہلِ ستم کو جانا ہے

تلوار و قلم کا معرکہ ہے
جبر و امن کا معرکہ ہے
جبر کو مار بھگانا ہے
اہلِ امن کو آنا ہے
اہل ستم کوجانا ہے


عہد امن کوآنا ہے
عہد ستم کو جاناہے

محصور



Tuesday, 16 October 2012

انسان کا قتل ۔۔ انسان کرتے ہیں



شہدائے کوئٹہ کے نام۔۔



انسانوں کی بستی میں
حیوان بستے ہیں
ماتھے پہ شکن، لب خوں آلود
اک ہاتھ میں سر، اک ہاتھ خنجر
سوچا تھا کبھی؟
دنیا میں بھی
حیوان سے بد تر
انسان کا قتل
انسان کرتے ہیں
۔۔۔۔۔۔

محصور





Monday, 15 October 2012

سانحہ چلاس و بابوسر ٹاپ کے شہیدوں کے نام۔




جوکوہساروں میں، رستے میں
قتل ہوئے بے دردی سے
ظالم کی دہشت گردی سے
وہ سارے لوگ میرے ہی تھے

 جو گھر کی جانب نکلے تھے
 جو عید منانے نکلے تھے
بے جرم نہتے قتل ہوئے
وہ سارے لوگ میرے ہی تھے

سن عدالت کے قاضی
بے عدل عمارت کے والی
جم گئے جس خوں کے چھینٹے
وہ سارے لوگ میرے ہی تھے

چٹان،حجر،شجر گواہ
ماوٗں بہنوں کی آہ و بقا
دریا کی نذر جو تھے لاشے
وہ سارے لوگ میرے ہی تھے

تکبیر کے ساتھ ذبح ہوئے
تکبیر کی ساتھ قتل ہوئے
جو نام علیؑ حسنینؑ والے
وہ سارے لوگ میرے ہی تھے

بیٹے کی لاش ماں تک پہنچی
وہ کیا جیتی اور کیا مرتی
پامال چہرے پرتھے نوحے 
وہ سارے لوگ میرے ہی تھے

ڈاکٹر نثار کے لیے
نثار تو ایک مسیحا تھا
خدمتِ انساں پیشہ تھا
جس پر گولی،خنجر چلے
وہ سارے لوگ میرے ہی تھے

عشقِ علیؑ کے جرم میں ہم
صدیوں سے یوں پامال ہوئے
جو ذبح ہوتے سولی چڑھتے 
وہ سارے لوگ میرے ہی تھے

خونِ جگر کے گھونٹ پیوٗں
پھر کیوں نہ میں نوحہ لکھوں
مظلوم مسافر جوتھےلٹتے
وہ سارے لوگ میرے ہی تھے

محصور