Sunday, 21 October 2012

فرزندِ رسولؐ علی رضا تقوی شہید کے نام




ناموسِ محسنِ انساںؐ پر
بات آئی صاحب قرآںؐ پر

غیرت کے پیکر بیٹے نے
جاں دی ہے تقیؑ کے بیٹے نے

ہے صادق سچا علی رضا
امیںؐ پہ قرباں علی رضا

مقصود شہادت تھی اس کی
منسوب شہادت تھی اس کی

صادق نے کہا ہے اپنا فخر
ماں ، بہنوں،بیٹوں کا فخر

 ہے نام علی، فرزندِ علیؑ
سرورؐ پہ قرباں، فرزندِ علیؑ

وفائے ابو طالبؑ ثابت
کام سے تیرے علی ثابت

احمدؐ کا محافظ عمراں ؑ ہے
یا اس کی نسل کا کوئی جواں ہے

شجاع وہ، جو مردِ میداں ہے
تقوی ہی مردِ میداں ہے

شعور تھا اس کو شہادت کا
معلوم تھا اس کو شہادت کا

۔۔۔۔۔۔۔
محصور
اکتوبر،۲۱،۲۰۱۲

Saturday, 20 October 2012

دھشت ہٹے، رہے دنیا امن سے۔۔




جمودِ سکوں پہ کیوں خاموش ہے۔۔؟
بڑھتے جنوں پہ کیوں خاموش ہے۔۔؟
بریدہ سروں پہ کیوں خاموش ہے۔۔؟
جلتے گھروں پہ کیوں خاموش ہے۔۔؟

بولو کہ انساں کی پہچان ہو
حیواں وشیطاں کی پہچان ہو
۔۔۔

جو انساں پہ کرتا ہے غارتگری
جو چھینے ہے ہم سے ہماری خوشی
جو قلموں کتابوں سے ڈرتا ہے جی
چلاتا ہے خنجر وہ گولی کو بھی

جنگ  کا  آغاز کرتا  ہوں  میں
بتا دو نہیں ان سے ڈرتا ہوں میں
۔۔۔
حسیں وادیوں پہ ہیں چھائے ہوئے
درندوں کا لشکر بنائے ہوئے
جنت کو دوذخ بنائے ہوئے
دیں کا تماشا بنائے ہوئے

یہ مسلم نہیں ، اس کی پہچاں نہیں ہے
خدا کی قسم وہ تو انساں نہیں ہے
۔۔۔

کرو بات ان سے ،جو کہتے ہیں لوگ
وہی ان سے ملتے ملاتے ہیں لوگ
پھول سے کانٹے ملاتے ہیں لوگ
وہی ان کے ساتھی یہ چاہتے ہیں لوگ

درندوں سے ملتا ملاتا ہے کون۔۔؟
درندوں کی بھاشا سمجھتا ہے کون۔۔؟
۔۔۔

پھولوں کی بستی بساتے ہیں پھر سے
چلو آوٗ ہنستے ہنساتے ہیں پھر سے
گیت امن کے سناتے ہیں پھر سے
اجڑے گھروں کو بساتے ہیں پھر سے

قائم رہے یہاں دنیا امن سے
دہشت ہٹے، رہے دنیا امن سے
۔۔۔

محصور
۔۔
اکتوبر ۲۰،۲۰۱۲


Friday, 19 October 2012

چیف جسٹس سے شکوہ اور سوال۔۔



یہ کیسی تیری عدالت ہے۔؟


صدحیف تیری عدالت پر
صد حیف تیری قضاوت پر
لہو رنگ ہے اپنا وطن
تو مسندِ  عدالت  پر

تھپڑ پہ نوٹس لیتا ہے
خوں خواروں کو چھوڑتا ہے
جو سو لوگوں کا قاتل ہے
تو کیسے اس کو چھوڑتا ہے۔۔؟

کیا ایسی تیری عدالت ہے۔۔؟؟
کیا ایسی تیری قضاوت ہے۔۔؟؟

۔۔۔۔۔

عدل کے ایوانوں میں بیٹھے
بے حس ضمیرو بولو تو
جب قاتل مانے اپنا گناہ
کیا اس کو چھوڑا جاتا ہے

پھر کیسے چھوڑے قاتل تم نے۔۔؟
پھر کیوں چھوڑے قاتل تم نے۔۔؟
ایسا بھی کہیں پہ ہوتا ہے۔۔؟
جیسے چھوڑے قاتل تم نے۔۔؟

کیا یہ بھی کوئی عدالت ہے۔۔؟
کیا یہ بھی کوئی قضاوت ہے۔۔؟

۔۔۔۔

محصور


وکیلِ آلِ محمدؐ سید شاکر حسین رضوی کےنام۔۔



شہید سید شاکر حسین رضوی کو استعماری گماشتوں نے لاہور ہائی کورٹ کے باہر اپنی سفاکی اور درندگی کا نشانہ بنایا۔۔
تاریخ شہادت۔۔۱۹ اکتوبر ۲۰۱۲

مظلوموں کا حامی شاکر
محصوروں کا حامی شاکر

وکیل غلام رضا کا تھا
فرزند امام رضاؑ کا تھا

مارا تھا عدالت کی چوکھٹ پر
بے عدل عمارت کی چوکھٹ پر

جو سو موٹو کا حامی ہے
چپ کیوں اس نے سادھی ہے۔۔؟

دہشت کو للکارے کون۔۔؟
وحشت کو للکارے کون۔۔؟

شاکربولا ہے شہادت پر
شاکر ہوں اپنی شہادت پر

زہراؑ کا پسر،زہراؑ پہ قرباں
ملت کا فخر، زہراؑ پہ قرباں

منزل جو تو نے پائی ہے
زہراؑ کی دعا سے پائی ہے

شاکر تو زندہ پایندہ ہے
قتل ہوا پھر بھی زندہ ہے

روز لٹتے ہیں گھر اپنے
روز کٹتے ہیں سر اپنے

ظالم پھر بھی حیراں ہے
زکرِ حسینیؑ پھر بھی رواں ہے

ظالم انگشت بدنداں ہے
قافلہ اپنا پھر بھی رواں ہے

مبارک تجھ کو قربتِ زہراؑ
شہادت ہی ہے قربتِ زہراؑ

محصور۔۔
اکتوبر ۱۹،۲۰۱۲
۱۱:۱۸